ب کا رُخ
؎ پیر فریدِ من تُوئی!
ایک مرتبہ آپ کے ساتھ گلاسکو میں گردوارہ صاحب بیٹھے لنگر کر رہے تھے، آپ نے نانک کے ضمن میں خواجہ فرید پر مضمون باندھا اور بتانے لگے کہ ہم ایک مدت شیخ جمال ہانسوی کی معیت میں رہے اور “ب” کے اسرار و رموز سمجھنے میں رہے، یہاں تک کہ بابا فرید الدین گنجِ شکر کی چوکھٹ پر بھی حاضری ہوئی۔ تاریخی طور پر شیخ جمال ہانسوی اور صوفیۂ چشت نے حرفِ ب کو تجلی کے آغاز کی حیثیت سے برتا، اور بابا فرید کی زیارت اسی باطنی منازل کی توسیع تھی۔ آپ جان گئے کہ حاضری ب کی ہی حاضری تھی۔
ب بہشتی دروازہ، جس سے ہم گزرے کیا تھے، گزارے گئے۔
جان ب حلاوت آیدم — یہ مصرع فارسی صوفی روایت میں مستعمل ہے اگرچہ نسبت متعین نہیں،
گنجِ شکر ب زیرِ لب، پیر فرید من تُوئی
ایسے میں مولوی حیدر حسن فرمانے لگے:
؎ بخت شدہ بکامِ من گشت، مراد حاصلم
یہ بھی روایتی فارسی شعری قالب میں موزوں ہے، اگرچہ اس کی نسبت مختلف دیوانوں میں متفرق ملتی ہے۔
ہم کچھ یوں سمجھے:
گشت شدہ بکامِ من، بخت مراد حاصلم
(اور یہی بدل کر سن لینا اپنے اندر ایک لطیف فرق رکھتا ہے۔ اصل مصرع میں بخت پہلے ہے اور خواہش بعد میں، یوں معنی یہ بنتا ہے کہ تقدیر خود جھک کر ہماری خواہش کی طرف آتی ہے اور مراد پوری ہوتی ہے۔ بدلے ہوئے مصرع میں ترتیب الٹ گئی، یہاں ابتدا میری خواہش کے مطابق بننے سے ہوتی ہے اور بخت بعد میں آتا ہے۔ اس سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ انسان کے باطنی حال نے تقدیر کا رخ متعین کیا۔ پہلے میں بخت سالک تک آتا ہے، دوسرے میں سالک کی کیفیت خود بخت کو بدل دیتی ہے۔ صوفیہ کے نزدیک شعر دل کے مقام سے سنا جاتا ہے، اس لئے یہ تبدیلی لغزش نہیں بلکہ اس لمحے کے ذوق کی عطا ہے۔)
اور صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ خواجہ مستان شاہ چشتی کابلی بھی آ گئے۔
تاریخی طور پر ان کا چشتی سلسلے سے اتصال ثابت ہے، اگرچہ امیر خسرو کے براہِ راست تلامذہ میں نام محفوظ نہیں، لیکن ادبی تشبیہ آپ کی بیان کردہ فضا میں درست بنتی ہے۔
کچھ یوں فرمائے؛
خواجہ عبدالقدوس گنگوہی چشتی صابری بھی لقمہ دیے،
اور یہاں آپ کا حوالہ حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ ان کے ملفوظات میں “نزولِ تجلی” اور “بازارِ خلق” کے استعارے ملتے ہیں:
ب خودی خود دَر تماشا سوئے بازار آمدی
یہ مصرع نسبتاً مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔
وہ بزرگ، بازار، وہ بزاز اور بہزاد — جی سبھی ب سے ہی تھے۔
آپ جانتے تھے اور اتنا ہی نہیں، پھر فرمائے؛
؎ در بہاراں گل شدی در صحنِ گلزار آمدی
؎ بعد ازاں بُلبُل شدی بانالۂ زار آمدی
یہ دونوں اشعار کلاسیکی فارسی روایت میں موجود ہیں، اگرچہ نسبت مختلف شعرا کے ساتھ منسوب ملتی ہے، مگر مفہوم صوفیانہ اور آپ کے بیان کردہ تناظر سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔
(یعنی موسمِ بہار میں پھولوں کا روپ دھار کر خود چمن کی زینت ہوا اور پھر بُلبُل بن کر اپنے ہی حسن کا عاشق ہو کر نالۂ عاشقانہ بلند کیا)
وہ بعد میں ب سے بُلبُل کا بن جانا — آپ پوچھے کیا “ب” کے سوا تھا؟
نہیں صاحب، ب کی معیت کے سوا کیا تھا؟ کچھ بھی نہیں۔
بُلبُل کا ہونا، باغ کا ہونا، اور “بہ نالۂ زار” ہونا — سبھی “ب” کے جلوئے تھے۔
