جی تو صاحب، کیا ہے کہ تیسری اجازت کا آغاز ہوا جاتا ہے، یہ اجازت کچھ ہنگامی صورتِ حال میں واقع ہوتی ہے۔
خیر، ہنگامی صورتِ حال تو ہر وجود کو لاحق ہے، کونسا ایسا اچمبھا کہ واویلا کیا جائے! تو عرض یہ ہے کہ آپ احباب کے سامنے پرفارمنس پیش کرنے کی خواہش لیے ہیں، کیا ہے کہ نئی رُتیں ہیں، نسلِ آدمی کی۔ اب مارکیٹینگ ضروری ہے، تو قصہِ کوتاہ، اب کے خود کو ادبی منڈی میں پاتا ہوں، آوازیں ہیں. . . تیز تیز چلتے قلم و اقلام کی، یہاں وہاں دال دوات سے سات سات روشنائیاں بکھری پڑی ہیں ۔ حروف کہ نقطہ کشائی کے لیے کھینچاتانی کر رہے ہیں، ایسے بڑے بڑے حروف فضا میں معلق ہیں، الواح یہاں ، ابھی ٹوٹی ہیں ، وہ وہاں بھی لکھا جا رہا ہے. . . . کاتبین لکھ رہے ہیں، اُن کے لکھے کو دیکھ کر کراماً کاتبین لکھ رہے ہیں. . . . تو کیا ہوا؟ دو چار کتب ہم بھی لکھ دیے تو!!!!
لیکن بات وہی ہے کہ ادبی منڈی میں جو جتنا گلا پھاڑ کر چیخ سکتا ہے اُس کی ” ڈیمانڈ“ بھی اُسی اعتبار سے ہے۔ ہم تو صاحب، رہے نام خدا کا، کہ پڑھنے لکھنے میں ایسے اُترے، یا ، ایسا اُترے کے خاموشی کے غول اترنے لگے ہم پر، ہم نے خاموشی کی اُنہی افلاکی ساعتوں میں جو آواز سنی ، تو اُس آواز کی سماعت میں ایسا جکڑا گیا کہ رہائی کی حاجت باقی نہیں رہی۔ صاحب ، وہ آواز، یہی قلم کے چلنے کی آواز تھی! چلتا قلم، اور بھاگتے گھوڑے .. ہائے صاحب!! آدمی ہے ہی کہاں! اوّل تو آدمی کا سراغ لگا رہے ہیں ، پھر اُس غل غپاڑے کی عالمی منڈی میں بائیں جانب جو ادبی بازار سجا ہے اُس میں جائیے اور گلا پھاڑ پھاڑ کر بتائیے، کہ کچھ کہنا چاہتے ہیں! خیر، اب آتے ہیں اِس جانب! کہ فقیر ہیں، پراپرٹی کے کام سے ناواقف ہیں سو، اپنا “برینڈ” لانچ کرنا چاہتے ہیں، (استغفار)!! تو عرض یہ ہے کہ دو ہزار سولہ میں پہلی مرتبہ اقوامِ متحدہ کے مرکز ویانا میں ٹور کا موقع ملا، اور ایسے ہی مرکز بَون میں کل ایک ورکشاپ کے سلسلے میں حاضر ہوا تھا۔ !
کچھ تو ایسا تھا اُس فلور نمبر تیرہ پر، جو وہاں سے یہاں دوسرے فلور پر، آتے آتے کچھ ہو سا جاتا تھا صاحب! ہم نے یہاں بھی زمانے دیکھے، دیکھ ہی لیے تھے! احیا، رینیسانس، ریفارمیشن، عالمی جنگیں، اور اُن سب میں شامل شریکِ حال جرمن قوم! لیکن کوئی بھی ہماری تنہائی میں مخل نہیں ہو سکتا تھا! اجازت نہیں تھی! اجازت مانگی ہی نہیں گئی! اجازت ملی بھی نہیں!
ہم نے تو مانگی تھی ناں، آپ سے اجازت!
آپ کی ہی اجازت سے ہونے لگا تھا اور ہو رہا ہوں!
اِسی اجازت نے تو ہمیں نالائق لکھاری بنایا ہے! ہم ہیں آپ ہیں اور اِسی سے کائنات ہیں! کبیر داؔس فرمانے لگے؛
```
؎کبیرا عشق کا ماتا، دوئی کو دور کر دل سے!
```
ہم نے دل و دماغ کی دوئی کو ہی دور کر دیا. . کیا ہے کہ فرعائنہ ِ مصر مردے سے دماغ نکال کر حنوط کرتے تھے، دل رہنے دیتے تھے صاحب! ہم سمجھے کہ وہ بھی دوئی کا ہی شکار تھے! ہم کہتے ہیں کہ نکالو تو دل و دماغ دونوں نکالو! مطلب اگر دنیا چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ کیوں پالتے ہو؟ چھوڑو! کہو، بھاڑ میں جائیں، کہو جو کؔبیر کہتے ہیں کرو جو فقیر کرتے ہیں کہ ، بھاڑ میں جائے سب کچھ،
```
؎ جو چلنا راہ نازک ہے ، ہمن سر بوجھ بھاری کیا!
```
ہائے کبیر داس کیا جانتے تھے، کہ یہاں سر پر بوجھ ہو نہ ہو، ملک کے ہر ہر شہری پر قرض ہے صاحب! قرضوں کا بوجھ! ہونے کے بوجھ پر مزید بوجھ ہی ہے۔ کؔبیر کا کہا نہیں سمجھ پائے، ورنہ قرض خوار کو تو قربانی بھی جائز نہیں اور حج عمرہ تو دور کی باتیں ہیں صاحب! کیا ہے کہ قرض لے کر شادی کی جارہی ہے، کیا ہے کہ قرض لے کر ملک چلایا جا رہا ہے. . ریفرنس کے لیے: آیا جے غوری! !!
غوری پر بھی فوری غور ضروری ہے! ہر کوئی غوری پر ہی غور کر رہا ہے، کرتا جا رہا ہے۔ صاحب! ہم بھی غوری پر ہی غور کر رہے ہیں.. لمبے لمبے ، بڑے بڑے غوری صاحب! پوچھا یہ کہاں کے ہیں! فرمایا ملکِ کانگو کے ہیں۔ توبہ ہے صاحب! جس کے پاس غوری ہے وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہونا چاہیے سیاپا ہی ہے.. ہو تو مصیبت ، نہ ہو تو مصیبت!
اللہ حافظ!! پوچھنے لگے کدھر جاتے ہیں!
کہا ، غوری پر تھوڑا غور کر کے ابھی آتے ہیں!
۔۔
