صاحبِ کرم! پہلی اجازت کی ابتدا یوں ہوئی کہ ایک ایسا امکانِ لا ینحل پیش آیا تھا مجھے، جس کی ماہیت کو سمجھے بغیر اس سرکش عقل کو جوتنے کی کوئی راہ نہ تھی۔ سو ہم نے وہی کیا جو فقیر کا شیوہ ہے: ہونے کے سراغ میں عمر بھر جو بھٹکتے رہے، اسی اضافت کے جنگل میں، جہاں اثبات کا سایہ نہ ملا، اور ثبات کا گماں بھی ایک سراب رہا۔ جو تھا، وہی ہے، اور جو ہے، وہی ایک امکانی عقدہ ہے — لا ینحل، لایدرَک۔
عقل و نقل کی بیل گاڑی میں اس امکان کو لاد کر ہم چلے بھی اور چلائے بھی؛اِس گمان سے کہ ہوا تھا کبھی میں بھی، ہو گیا تھا اِک روز میں!
سو صاحب، پہلی اجازت اسی حیرت کے دبیز پردے میں عطا ہوئی، اور فقیر نے سر جھکا کر مان بھی لیا کہ یہ سب کچھ ایک اندرونی شہادت ہے — حضوری ہے اندررر!
