نون نظارے !
کتنے پیارے تھے صاحب!
سب نظارے نون کے تھے!
اور و القلم وما یسطرون، کے تھے
آپ کہیں: نون کے ہوں گے،
ہمارے تو نین سے تھے !
یعنی، کاف ھا یا عین .. کی عین سے تھے!
نون نظارے ، نینوں نے کیے تھے!
اور آپ ہی سے لیے تھے
ازل اور ابد کی دو آنکھوں کا سُرمہ
کس نے لگایا تھا؟
آپ نے صاحب،
پھر فرمایا: ” لگایا“ نہیں” پہنایا“ گیا تھا!
پہن آیا تھا صاحب!
آپ کا بنجارہ
بنجارے کی بنجارگی
بنجر نہیں تھی صاحب!
کٹارے نینوں کی دھار
خنجر تھی صاحب!
آپ نے آغوش میں لیا
چمکارا اور فرمایا، ”یہ بتلاو“
واقعات کی سرسَؔبیل کو
لغتوں کی زنبیل میں
کس نے اتارا تھا؟
ہم نے کہا: ”سرسَؔبیل“ و” زنبیل“ کو
قید کرنے والا اگر کوئی ہوا
تو ”نبیل“ ہوگا!
عقیل و شکیل تھے ،
سب نبی نبیل تھے!
اگر مصحف کے ابابیل تھے
تو اناجیل کے نبیل بھی ہوں گے!
ہوں گے نہیں،
ہیں بھی تھے صاحب!
ہم ازل و ابد کی
دو آنکھوں سے دیکھا کیے !
شجر و حجر کی نقل و حرکت ہو
یا برگ و برق کے
اثمار و برکت!
اِن سب سے کسی کا
بھلا کیا واسطہ؟
چل بنجارے
لے اپنا راستہ !
چلتے رہے، صاحب!
نون کے نظارے
کرتے رہے، صاحب!
