فرمائے: چپکے چپکے پکارنے والے کو کیا مٹھی بھر نکھار نہ ملے گا؟
پکارنے والے نے پکارا !
ہم سمجھے چمکارا ہے!
جم کر کاڑھا تھا صاحب!
دودھ کا بنا کھویا! گاڑھا تھا صاحب!
کھویا کھویا سا چل رہا تھا، چلنے والا کھویا ہوا پایا، تو رکنے والا کھو چکا تھا!
کچھ ہو چکا تھا صاحب!
کہنے کو زبان نہیں اور سمجھانے کا کلیجہ کہاں!! خدائے رحیم سے آپ پوچھا کیے !
یا الرحمٰن کا ورد کرتے رہے ، اور پکارتے رہے ، چپکے چپکے ، چھپ کے چھپ کے ، کہ سننے والا دہن سے پرے ہرگز نہیں تھا کہ سماعتوں میں نہ آ سکنے والی سبھی سرگوشیاں، اور سینوں میں دبی وہ خاموشیاں جو سن رہا تھا ہو کون تھا؟
آپ، صاحب، اُس خدائے لم یزل کو جس نے پکارا ، اُن سے نکھارا بھی !
اور بگاڑا بھی!
نکھار اور بگاڑ میں بھی نگار مشترک تھا!
آپ دیکھے نگار کو، بکھار کو اور بگاڑ کو، پھر پوچھے کہ فرق کا تھا؟
آپ صاحب! نکھار و بگاڑ میں فرق صرف ..
پکار کا تھا، صاحب!
ہم بتائے اور زار زار رونے لگے ، یہاں تک کہ رقت طاری ہو گئی!
فرمائے ائے داس داسیوں!
ہم تم نگار ہیں !
اور جس کو تم اپنی خاموشی میں جپتے ہو وہ تمہیں ہر ہر پہلو سے دیکھتا ہے !
اُس کے دیکھنے کو دیکھتے رہو!
ہم سمجھ گئے کہ دیکھنے کو دیکھنا، یقیناً ب سے دیکھنا ہو گا!
نون ناف کو قاف قینچی سے کاٹا اور گنگنائے:
پکارو!
بہارو! پکاروں پھول برساو! میرا محبوب آیا ہے! پھر قاہرہ میں قیام کا قصہ سناتے کہے کہ ایک شاعرہ نے آپ پر کچھ یوں نظم کہی ؛
الرجل ذو العيون العسلية والجسد النحيل
عبر قلبي ذات صباح
أشعل برمشيه سيجارتي
من بلاد بعيدة وحارة جدًا
أراد أن يهبط في ظلمتي
كفتاة تحب الإشارات وتتجاهلها
اطفأت شعلتي ومشيت
كفتى خَبر الطرق
قطع البحر ليلًا
نزل كطير صباحي
يرف كحمامة وينظر كصقر
في هذه المدينة الواسعة
طوفنا بالأحبة والأولياء
اثنان يحملان طفلًا من صمت
يبكي فنهدهده لينام
في مدينة أخرى قاحلة
أُعد له القهوة ما استطعت
أضع السكر كلما رمقني بعينيه
بعد ثلاثة ليال من الصمت وأربعة
فناجين قهوة
رف بجناحه فوق مدينتي
يهاتفني كرجل أوقظه الشوق
وأذابته الوحشة
وفي المساء يعبره الخوف
ينفث في شَعري غبارًا من الألم
ورياحًا من الندبات
على موائد المدينة
نأكل احتمالات الحب
كمن يضع خبيئته في بطنه
وفي الصباح
تكسرنا الرغبة ونعود للسير تائهين
في ليلته الأخيرة
قبل التحليق شمالًا
نزل في شرفتي
أهديته ثوبًا وفنجان قهوة
لبسهما معًا
واستلقى يحدثني
عن متعة التحليق فوق رأسي
انزلته عن كتفي
همست في أذنه
مررت أصابعي فوق ريشه
همسًا
أريد أن امنحك
ما تمنحه الأم لرضيعها
ما تمنحه العاهرة لعابر
وما تمنحه الحرة لحبيبها
أعاد ضبط جناحيه
أسكن الخوف في اليمين
والشوق في اليسار
وطار تاركًا قلبي على النافذة
ينفث دخانه ويبعثر ريش الغياب
۔ ۔ ۔ ۔
الفتى ذو العيون العسلية والجسد النحيل
ما زال في جسدي
لمسة يديه التي أذابتها الرغبة في ظلام السينما
ابتسامته الطفولية حين منحه الخوف إذنًا ليبقى جواري لساعتين
و حضنه المرتعش على سلم قديم يحلق فوقه طيرًا كرسول
المانجو التي اقطفها له من قلبي فتذوب على شفتيه كقبلة
و الطعام الذي أطبخه له ليحملني في معدته عائدًا نحو الشمال
و العطر الذي يدلك به وجنتيه بعدما نزل من جلدي
النادل الذي يسمى “سفينة” وينظر بقوارب نجاته لعيوني الحائرة
وحتى كلماته القصيرة التي ينهي بها بوحي كباب خلفي للهرب
تسير في عظامي
تدغدغ حاجتي للحب
و تفور كقهوة أضعها أمامه في رحلة قادمة
