جب آپ قاہرہ میں تھے—کون جانتا تھا کہ ایک ایک قدم میں کتنے زمانے طے ہو رہے ہیں۔
آہ صاحب! چالیس برس پہلے ابا میاں نے مصر کے شہرۂ آفاق قاری، عبدالباسط عبدالصمد کی کیسٹ سے سورۃ الرحمٰن سنی—اور یوں سنی کہ دیوانگی ٹھہر گئی۔ قاری صاحب کی آواز میں قرآن کے الہام نے ایک ہی فیصلہ لکھا: اگر خدا اولاد دے گا، تو نام یہی ہوگا!
آہ صاحب! پینتیس برس پہلے، بچپنے کی ب میں، “جامع الازہر” کا نام سنا۔ اور یہ بھی سنا کہ وہاں عالمِ اسلام کے جلیل القدر علما کے دروس ہوئے ہیں۔
فرمائے: بیٹا، عالمِ ناسوت میں وہاں اپنے بدن کو مس کرنا، اور اُن راستوں پر گٹنے ٹیکنا جہاں سے پیغمبروں کا گزر ہوا ہے۔
ہوا تھا صاحب!
گزر ناگزیر تھا!
گزَ، گزَ کا گزَر—رگ رگ سے گزَر!
ریگ سے گزَر، ریگ سا گزَر!
اُسی گزرنے میں ایک روز تحریکِ منہاج القرآن، لاہور کے مرکز میں موجود تھے، اور قبلہ خطاب فرما رہے تھے۔
فرمایا: شیخ عبدالقادر جیلانی ہمارے غوث ہیں—
قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہِ!
ہم نے گردن جھکا دی تھی، صاحب!
آپ کے قدم پر تن بدن بچھا دیا تھا!
گزر رہے تھے صاحب—
گزرنا تھا صاحب!
قاہرہ کی گلیوں سے گزرتے، تسبیحات میں سفرِ صراط شامل تھا—کاف چہرے، اور صراط کی سیدھ!
ان قدیم گلیوں میں جو پھیلا ہوا تھا—وہ قصہ کس کا تھا؟
⸻
ببول کا پھول!
اونٹ ہی اونٹ،
ہونٹ ہی ہونٹ،
اونٹ کے ہونٹ…
سایہ دار انسان، سایہ دار درخت—
سایہ تھا صاحب؟
بگڑیے مت—سنورنے دیجیے!
یہ بتائیے کہ اُن آنکھوں کا کیا،
جو آنسوؤں سے بھر چکی ہیں؟
اور اُن تشنہ لبوں کا کیا دوش،
جن پر کربلا سے کابل تک پھیلی پیاس کا بوجھ ہے؟
وہ پیاس—اُس کا حدودِ اربعہ کہاں ہے؟
کوہان ہیں—یا لہو لوہان ہیں؟
جو درِ مسیحؑ پر پڑا ہو—
کیا اُسے ایک کتاب نہ دی جائے گی؟
ہم یہی سوچتے رہے،
اور جزیرۂ ترکیہ میں روپوش مسیحیوں کی خانقاہوں سے گزرتے رہے۔
وہاں دیکھا کہ کتب اور کُتّاب بھی اپنی اپنی شاخیں رکھتے تھے—
جیسے اہلِ تصوف کے قطب و اقطاب!
ایسے میں آدم نے جب قلم سے لکھنے کی جسمانی رسم کو دیکھا،
تو نظر ہر کاتب کی کلائی پر گئی—
کہیں روشنائی کے چھینٹے،
کہیں سیاہی کی پُرنم حدیں…
اور جب رنگوں پر کلام ہوا،
تو چپکے سے یہ بھی دیکھا گیا—
کہ فقط کلائیاں ہی نہیں، ہاتھ بھی لہو رنگ دھبوں سے بھرے تھے!
یہاں وہاں تو صرف الف، ب ہی لکھا تھا صاحب!
مگر لکھتے لکھتے گھستے چہرے،
ظلمتوں کے طوق پہنے چلتی کلائیاں،
اور اُن پر لگے سات قلموں کے بیس دھبے—
دبے دبے، سیاہ نشانات…
آہ صاحب!
یہ بھی کوئی املا تھی…
