ف کا درد
فرمائے: افراد میں اگر کوئی قدر مشرتک ہے تو وہ فرد کے درد کی ہے ۔
ہر درد و فرد برابر کھڑے تھے اور آپ حروف ، خط و اصوات کی اناٹومی سمجھنے لگے، ایک گہری بازی لگائے، جب اُبھرے تو فرمائے: ہر ہر زاویے سے کسی بدن کو دیکھنے والا، اور یونہی ہر بدن و دہن کو دیکھنے والا، ہر ہر جسم کو حجم پر معتبر جانتا ہے۔سائنس و حکمت کی ابتدا مشاہدے پر مبنی ہے، ایسے میں مشاہدہ ذات کا ہو یا صفات کا، داخل کا ہو یا خارج کا، شاہد و مشہود کے البتہ پرہونِ منت ہے۔
پھر ہم سے پوچھے،
وہ کون سے صحیفے تھے جن کا نوفل عالم تھا؟
وہ ورق، وہ ورقہ!
ورق ورق
برق برق
کن کن
قلم قلم
اب کہ صحف دیکھا کیے،
ڈھونڈا کیے ، اُن لفظوں کو
اُن قلموں کو…
کاتب کے سوا
…
ف کی اشکال!
آپ ہم سے ڈھیروں باتیں کیا کیے، مگر کیا ہے کہ بات بات میں ذ ات ذات سا فرق ہوتا ہے…
آپ بہ غور دیکھے!
ہر بات کو اور بات کی ہر ہر ذات برادری کو ٹھیک سے پرکھا کیے ، اور ایسا ہی نہیں آپ ہی نے فرمایا کہ ہر ہر حرف کا بھی ظرف تھا صاحب!
آہ صاحب!
حرف ،
اور پھر اُس کا بھی ظرف!
ظ ظروف
ظ ر ف
آپ مضروف بھی جان گئے !
جان گئے ، کہ ہر زبان لسان کی ہی در پردہ ہے
جان گئے ، کہ لفظوں کے پیچ ہیں اور تاب بھی، اور زبان گری سے بڑھ کر مشاق نہیں ہے!
بات کہنے اور سنے میں، آپ فرمائے کہ حرف وہی ہوں جو باظرف ہوں!
آپ ظرف و مظروف تولا کیے !
ہم سے ڈھیروں باتیں کیا کیے !
