اماں نے دعا کی، خدا تجھے اپنے فضل کے سائے میں رکھے !
صاحب، وہ دعا بھی آپ کے سائے میں ہی دی گئی تھی ..سائے ہی سائے ..
سایہ ہی سایہ .. چار سُو پھیلا گھنا سایہ.. اُسی سائے میں ہیں اور راولپنڈی ڈھوک سیّداؔں میں بابا اسرارالحق شاہ صاحب کی صحبت نصیب ہے .. آپ ارشاد کیے : ” فضل“ اور” کرم“ میں کچھ ب کا بھرم لازمی ہے ۔ ہم یاد کر لیے کہ کرم پر پُرسش ہے ، آپ تائید فرمائے ، کہ کرم پر حساب ہو گا، کرم امتحان بھی ہو سکتا ہے اور آزمائش بھی۔ فضل پر سوال نہیں ، اِکرام ہے، فضل پر پُرسش بھی نہیں ..
ہم سمجھ گئے کہ پُرسش نہ ہوئی تو پرستش بھی نہیں ہو گی ..
؎ پُرسِش کرم کا شکریہ ، کیا تجھے آگہی نہیں ..
“فضل” بارے یہی سمجھے کہ آپ نے اپنا بنا کہ چھوڑ دیا، ”کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے“..
فضل پر جزا و سزا نہیں تھی، فرمایا عطا ہی عطا تھی ..
اُسی عطا میں ایک حرفِ ”وفا“ کو دہراتا گیا،
آپ کے اور پاس آتا گیا..
اِسی آتے جانے میں جو بیداری ہوئی تو خود کو بابا فضل شاہ کلیامی کے مزارِ پُر انوار پر پاتا ہوں..
ہم ٹیک لیے خود کو، ٹھیک کیے خود کو، اور سنگِ مر مر پہ سجدہ ریز ہو گئے .. اُس ریزگی و ریختی میں بننا بگڑنا برقرار تھا ..
فرمایا، فضل کے سائے کا ایک قدم ستر برس کی مسافت پر مبنی ہے ..
مسافت جاری تھی، فضل کا سایہ دراز ہے .. آپ پوچھے کتنا دراز ہے ، خسرو فرمائے ؛
؎ شبان ہجراں دراز چوں زلف روز وصلت چُو عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
وہ اندھیری رتیاں ، فضل سے ہی اندھیری تھیں!
فضل کے گھنگھور سائے میں جو ہم بہکے یا ڈگمگائے ،
تو فضل کے سائے میں ہی رہے !
