علم کے پیاسے کو چوٹ دیجیے ، کوئی لفظوں کا کھوٹ دیجیے !
کیا ہے کہ علم کے نخلستان میں سراب ہی سراب دِکھائی دِیے تھے ، کتابوں کے سراب! سرابوں کے سراب!
چار سُوں پھیلے حرف سمندر میں ڈوبا کوئی نکتہ، کہا ں جا رُکتا؟
یہی سوچتا ہوں کہ ایسا نکتہ، نقطہ نہیں ، بحر ہے صاحب! آپ کے لائق ہے ، لے یجیے ، پہن لیجیے اِسی نقطے کو!
آپ کہے ، ایسا نقطہ کس کاری؟ کیا کریں گے ہم اِس کا، کیا کریں گے ہم تمہارا! ؟
ہم سمجھ گئے، آپ کو یاد دِلایا! کہ والی جناب، ہم میں کوئی نقطہ نہیں ، نقطہ تو ”مَیں“ میں بھی نہیں !
رہے ”آپ“، تو تین نقطے تو برابر دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ زُبانِ معلیٰ میں چار نقطے ہرگز نہیں لہذا، آپ نقطہ گَر ہیں اور نامہ بَر بھی !
آپ کو غمِ دل کیسے سُنائیں، کیوں کر بتائیں ! بھلا کیسے سمجھیں گے آپ، نقطوں کے فریب کو؟
واہ ، صاحب ! اب کہ خود کو علومِ دقیق و جلیل کے معبدوں میں پاتے ہیں ، دیواریں الف ایستادہ ہیں تو نون گنبد فلک بوس ہیں .. کِسی ”ع“ کو کسی ”غ“ سے علاحدہ کرنے کا کوئی سلسلہ نہیں . . . نقطے ہیں ہی نہیں !
جی صاحب! ہمارے بغیر کیسا بے رونق تھا یہ معبدِ عبودی!
جی ”عبد“ کی ”ب“، بَوؔن میں سُلگھ رہی ہے .. کیا ہے کہ طاق ہیں ! طاق میں طاق نقطے، مثِل مشعل فروزاں ہیں ! جی ! ہیں ! اور نقطوں کے مَحلات بنے ہیں .. ایک نقطہ چُرا لائے تھے ، آپ کے لیے ! جی خوش ہو جائے گا آپ کا.. ۔ اب کیا ہے کہ آپ سمجھے نہیں ، کہ “ب” کا نقطہ آخر ہے کس کا؟ ہم کہے کہ جس کا چاہے بنا لیجیے !
آپ کا ہی ہے ، ب کا نقطہ!
سراب کی ب ہو یا کتاب کی ب، ب سے ہی بنجارگی ہے اور ب سے ہی بے چارگی بھی! لیکن جاری کی ”ج“ میں بھی نقطہ ”ب“ ہی کا ہے صاحب! ایک لے لیجیے ، جہاں چاہے لگا دیجیے ، لکھا کیجیے ! غاؔلب کو جس غیب سے مضامیں آتے تھے نا صاحب، وہ غیب بھی ب سے ہی تھا، اور جس اقبالؔ کو فلک سے ندا آئی، وہ فلک بھی ب سے ہی تھا صاحب، اور تو اور ، آسمان سے اُترتے ہر ہر حرف پر ، نقطہ صرف ”ب“ کا تھا۔ علم کے پیاسا، نقطوں کے سمندر میں ڈوب رہا تھا!
آپ نے جھٹ پوچھا، ب سے ڈوب رہا تھا؟
ہم نے تائید کی ، کہا، بے شک ! جو ڈوبا وہ “ب “سے ہی ڈوبا!
اور جو تَیرا، وہ کیا دیکھتا ہے ؟ جی صاحب دیکھتا ہے کہ لفظوں کے سراب ہیں .. آپ جُھومے کہ ”سراب“ بھی” ب “ سے ہی ہیں ! حروف کی کشتی پر سوار نقطوں کے سمندر میں ڈوب رہے ہیں ، لفظوں کے سراب دیکھ رہے ہیں !
اور بتاتے چلیں کہ “ ب “ سے بہتی نیّا میں، جو بہکا بھی تو ب سے ہی بہکا !
اور جو دیکھا ب سے ہی دیکھا کہ بے سے دیکھنا، ادب سے دیکھنا تھا!

