آج فرمائے :”آپ بہت دیر سے آئے…“
جی، صاحب !
دیر…
کیوں نہ ہوتی؟
دیر، ہی تو تھی…
آہ صاحب…
لکھے کو، پڑھنے والا ، کوئی نکما ہو، تو اِملا کیسے لکھ سکے گا؟
باجی بشریٰ کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔
وہ براآمدے میں کرسی پر بیٹھی ہیں …
ہم دیکھ رہے ہیں!
جی صاحب : دیر، کو بھی ، حرم کو بھی
دیکھ رہے تھے ، دو آنکھوں سے..
دیر کو صوابی سے ، اور ہر حسابی کو کتابی سے الگ جانا
دیر و دوراں کو ، اور، دہر کے ہر ہر دھوکے کو ،
دیکھا کیے ، صاحب!
نگاہِ زمن میں
اور ہر ہر گاہ و گلشن میں
دیکھا کیے …
چھانا کیے …
دال کی دیر
دین کے دھوکے !
دینے کے ، لینے اور دینے کے، برابر دھوکے
ہونے کےاوہام میں مبتلا کوئی ہم وطن،
آپ پوچھے کیا بیچتا ہے؟
دھوکے بیچتا تھا صاحب!
دین کے دھوکے.. دنیا کے دھوکے!
لین اور دین میں تو دغا بازیاں تھی ہیں
دین و دنیا کی مکاریاں بھی شامل کر لی گئی
اور کہنے لگے” دیں گے دھوکے “!
دھو کر ہی دیے گئے تھے،
دین و ایماں کے دھوکے صاحب!
اتنے میں کسی بچے کی آواز ۔۔ دھو دھو!!
دھوکر دھوکا دو!
دو کا دھوکا!
دہوکا:دھونے کا دھوکا
۔
