آج فرمائے ، کسی شیر خوار کے اسہال ہو ں یا دائمی قبض کا مارا کوئی آدمی، انسان کے اعضلات کی طرح اُس کے اعصاب کا سکڑنا پھیلنا بھی خالی اَز حکمت نہیں ہے، اگر روز مرہ کی اشیا اور اعادات سے اِنسان کے خارجی ماحول میں نمو ہوتی ہیں اور تبدیلیاں انٹروپیاں اُس کے ماحول کو بدل رہی ہیں تو انسان خود بھی تبدل کا معروض ہے۔ اُس کے ارادے اور جبر وقدر کے سارے مسائل کا آسان سا کلیہ مل جاتا ہے یہی کہ انسان کا جب اپنے اعضلات پر کوئی تصرف نہیں ، تو اپنے ہوش اور ارادے میں کتنا مختار ہے؟
داسیم(Dasyam) اور سکھیم(Sakhyam) تو چل رہا تھا ، گائتری منترا اور ہنومان چالیسا بھی ، اتنے میں آپ کے پیر چُھوئے، آج کا یہ سوال تھا، جسے لیے آپ ملک بہ ملک سیاحت کیے اور بزم ہائے بزم ، اٹھا کیے بیٹھا کیے اور اتنے میں بابا جی کی دعا یاد آنے لگی، فرمائے،” بیٹا دنیا آپ کے لیے ڈھائی قدم ہو جائے گی،“ تو کبیر داس ہمیں سینے سے لگائے اور ساتھ ساتھ دم کیے ؛
ایسے میں میَں قربان جاوں! کہے،
پوتھی پڑھ پڑھ جگ موُا ، پنڈت بھیا نہ کوئے
دھائی اکھر پریم کا، پڑھے سو پنڈت ہوئے
ہر ہر لہجہ میں ، ہر لسان و لحم میں ایسے تبدل کیا معنی رکھتے تھے، آپ سے پوچھا گیا۔۔۔
آپ فرمائے کہ کلامِ ذی مرتبت میں خداوند نے فرمایا کہ” انسان اپنے ہونے پر غور کرے۔۔۔“، اُن کے ترنم کے جمالیاتی پہلو پر غور فرمانے لگے اور ایسا غور کیا کہ انسانی اعضلات سے بازگشت سُننے لگے ہیں؛
ڈھائی اکشت پریم کا ۔۔
ڈھائی اکھڑ پریم کا
دھائی اکھڑ پریم کا
ڈھائی اکھڑ پریم کا
اڑھائی اکھڑ پریم کا
غور کی غ میں اترے ہیں کہ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں ۔ ملکِ شمالی فن لینڈ کے برف آب میں قدم بھرتے ہیں اور ہمیں فرماتے ہیں کہ ہونے میں ہوتے چلے جانا ہی معرکہ اوّل ہے، یعنی انٹاولوجی میں ہونے والا کوئی بھی معمہ اپسٹمالوجی حل نہیں کر سکتی،
پس الفاظ کے چناو، بہاو اور تناو میں بھی ایک سا بہاو دیکھو!
ب کا بہاو،
الف ب پر
آنسو بہاو!
آپ نے کیسی شوقی سے دیکھا، جانتے تھے کہ بہاو میں بہر اور بحر دونوں میں ب کی موجودگی لازمی تھی!
اور بہاو میں” ب“ وہ کس کا تھا؟ آپ یونہی پوچھے۔۔
وہ، ب، جی صاح! ب بہاوالدین ملتانی کا تھا، اب کہ میں سید کے یہاں موجود تھا کہ حضرت عبدالبہا کے کلام ِحکمت میں غوطہ زن تھا اور قریہ قریہ آپ کی دعا گونجتی”يَا ابْنَ الرُّوحِ! فِي أَوَّلِ الْقَوْلِ امْلِكْ قَلْبًا جَيِّدًا حَسَنًا مُنِيرًا لِتَمْلِكَ مُلْكًا دَائِمًا بَاقِيًا أَزَلًا قَدِيمًا.”
ب سے بہااللہ کی ب کی بہر،
اور ب ۔۔۔ ظاہر ہے ، ہمارے کبیر کی تھی،
وہی ب آج کبیر کے داس کی تھی۔۔
آپ ہمیں پنڈٹ کہے ، کہ جانتے تھے ہمیں بھگتی کے دو حرف معلوم ہیں ۔۔
جو پڑھے سو پنڈت ہوئے
وہ ڈھائی حرف پریم کے تھے!
ب سے تھے!
۔۔۔
اب دنیا ڈھائی قدم ہے، اور سر ب سجود ہیں!
اُس رمزِ الف کو سمجھنے کی
ہونے کی
ہوتے ہوئے، ہوتے چلے جانے کی
یا ہوتے ہوئے ہوتے رہنے کی
فرمائے جو بھی جست جو ہو، ہو تو،
ہو تو سہی
ہو تو ہو
تو ہو و وہ ہو
فرمائے توریتِ مقدس، ان حروف سے یعنی” تو ہو و وہ ہو“ (توهو و بوهو یا توهو ووهو (תֹהוּ וָבֹהוּ ṯōhū wā-ḇōhū (پیدایش ۱:۲) کو کسی بھی قسم کے منظم سسٹم سےپہلے کی حالت بتاتی ہے(formless and empty)، یہی وہ تو لفظ ہیں کہ جن سے ہونے میں ہونا ہے، تو ہو و بو ہو سے ہونے تک،آوازِ ازل کو سنا کیے، پھر فرمائے ، ہم خداوند کو تہجی کا الف ایسے ہی مانتے ہیں جیسے ہونے کو ہونا مانتے ہیں!
اصل میں ہونا،
صرف الف کا ہونا ہے
الف ہونا ہے
۔
۔
۔
اور نہ ہونے کو؟ ہم پوچھا کیے ۔
آپ سینے سے لگائے پھر گویا ہوئے؛ ہونا ہی مانتے ہیں، ماننے کے لیے بھی ہونا شرط ہے!میں نہیں ہوں تو الف ب کے ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، میں ہوں تو الف ب ہیں۔۔ الف انقرہ سے ب بون آئے تو کہے کہ الف اور ب سے سوا، صرف ، ہونا ہے۔۔۔ نہ ہونے کی جملہ اقسام کو آپ ہونے سے وضع کیے، ہونا شرط ہے، ہونے سے ہی غور کا ہونا، آوازوں کے تفاوت کو ، لہجوں کی بناوٹوں کو ، جسموں کے اعضا کی برملا تحریک سمجھا کیے جانا کیے، اور پھر ایشیائے کُوچک میں ہر ہر حرف کو دو دو ہفتے سنا کیے اور جانا کیے شہروں کو، چہروں کو، اور حروف کے ہم پلہ آواز کو، حلق کی تیغ تہجی!
۔
۔
۔
الف پیشانی اور ب چہرہ
آپ لکھا کیے، آپ پڑھا کیے
وہ ڈھائی اکشت پریم کا
جو پڑھے سو پنڈت ہوئے ۔ ۔ ۔
آپ نیم کرولی بابا کے نیم کو ب بھیم سے یکتا کیے، اور بینڈت سے پنڈت کے سبھی چہروں میں ہوا لیے، یہ بتوں کے بیسیوں چہروں میں آپ وہی سیدھا راستہ جانا کیے، اور اُسے صراط مانا کیے۔۔
صراط پر چہرہ کیے۔۔۔
ب اور الف کی مینا کاری جاری تھی ، اور اُن سے
جتُے جملہ تہجی کو لام کی جو لگام تھی، وہ الف نے اپنے ہاتھوں سے تھام رکھی تھی،
حروف کی پیشانیاں
الف کے حضور سر بسجود تھیں!
آپ پھر مسکرائے کہ سر ب سجود ہوتا ہے تو”واہ “بنتی ہیں اُسی حالتِ و او میں مرتکز ہیں اور لہجوں کی بغاوتیں سنتے ہیں ،
فرمائے جیسے ہونے میں عوارض و مغارض ہیں ایسے ہی مبتلائے ذات میں ہونا۔۔؟
ہم جھٹ سے کہے، ب خدا، ب سے ہی ممکن ہوا تھا!
الف پوشیدہ، الف رمزیدہ
اور ب بسم اللہ، ب صدقے یا رسول اللہ
۔۔۔۔۔
صراط چہرہ
آنکھ منزل
