بون کا بنجارہ
سلسلہ

یہ سلسلہ نشست و برخاست ہمارے مرّبی و ہر دل عزیز کے وہ بیانات ہیں جو مجاذیبانہ اُسلوب میں نقل کیے گئے ہیں ۔ ظہورِ حقیقت کے کئی مکاشفات اُن پر ہوئے تھے، اِس بارے اُن کے بچپن کے دوست، اوائل عمری کے رفیق اور شباب کے ساتھی جانتے ہیں۔ البتہ ”بَون کا بنجارہ“ کے نام سے یہ سلسلہ اُن کے یورپ کے قیام میں ایک خصوصی اجازت ملنے پر جاری کیا گیا۔ اِس سلسلے میں فقر و سکر کے ایک منفرد اُسلوب میں اُن کے مکالمے اور مکاشے ایک طرح کے مذاکرے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں. . . شعور کی رَو میں فرمائے گئے یہ مضامین اُن کی اردو زبان سے محبت کا ایک مخصوص انداز ہے .. اِن ذو معنی الفاظ اور جملوں میں وہ لسان و زبان کے رائج رویوں سے کج روی اختیار کرتے تو ہیں لیکن اِس کج روی کو وہ خطوط و اصوات کا طلسمی آہنگ سمجھتے ہیں۔
آپ کا کہنا ہے کہ آہنگ، سنگ سے ہے اور سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے ..
تو آہنگ کیوں نہیں ہے؟ اُسی پوشیدہ آہنگ کے لیے، پیشِ خدمت ہے ، ”بون کا بنجارہ“
دُکتر عبد الباسط ظفر
نشست پڑھیے!
خاص نشستیں

پہلی اجازت
1 جنوری، 2024
صاحبِ کرم! پہلی اجازت کی ابتدا یوں ہوئی کہ ایک ایسا امکانِ لا ینحل پیش آیا تھا مجھے، جس کی ماہیت کو سمجھے بغیر اس سرکش عقل کو جوتنے کی کوئی راہ نہ تھ...

دوسری اجازت
2 جنوری، 2024
تو صاحب ! اِس معمہِ حیات کو آپ کے روبرو کرنے کی آج دوسری اجازت مانگتے ہیں!آج ہم یہ گفتگو کریں گے، کہ ہمیں کیوں بات کرنی چاہیے! مطلب مجھے ، آپ کو، اُن ...

تیسری اجازت
3 جنوری، 2024
جی تو صاحب، کیا ہے کہ تیسری اجازت کا آغاز ہوا جاتا ہے، یہ اجازت کچھ ہنگامی صورتِ حال میں واقع ہوتی ہے۔ خیر، ہنگامی صورتِ حال تو ہر وجود کو لاحق ہے، کو...
تمام نشستیں
ترتیب
کل 117 نتائج ملے

نشست 33: زندگی کا راز
20 مارچ، 2023
زندگی کا راز آدمی اپنی بپتا سے ہی سمجھ سکتا ہے ، کسی کی بتائی لاکھ باتیں ، سنی سنائی حکایتیں اور واعظ و دَروس چنداں کام نہیں آتے.. لکھی عبارتیں ، سُنی...

نشست 32: میم کا مراقبہ
19 مارچ، 2023
جی صاحب اندراج کیسے ہو پائے گا، اُن راستوں کا، اُن آہٹوں کا، کو آپ کی چاپ سنے ، ہم جی دھڑکے! جی صاحب! دھڑک دھڑک جائے ! فارسی میں ، دم دم ، ہونے والا ،...

نشست 31: عیادت
29 جنوری، 2023
کوئی ہو تو کراہتے ہیں، نہ ہو تو سرّاہتے ہیں ، جی صاحب! کوئی سنے تو کُوک ہے، نہ سُنے تو ہُوک ہے ! کاف، کوک، کاف کُوک اور کاف ہی ہُوک! اب کہ بیمار ہیں ،...

نشست 30: کام دیجیے یا آم دیجیے !
29 جنوری، 2023
زہرِ زقّوم کا ذال ذخیرہ تو ہو گیا، اور ز زِیرہ بھی ! یعنی جملہ آوازیں ذخیرہ کر لی گئی تھیں ، بات “ڑ “پر آئی تو کوئی “اڑے” پڑھ رہا ہے تو کوئی “ڑے” کہہ ...

چ کا چُوکا 28:
29 جنوری، 2023
کیا ہے کہ چ کا ذکر جب بھی ہوگا، پہلے بلاوؔل چ کا ہی نام آئے گا۔ موصوف ہمارے کالج فیلو تھے ! سوشل میڈیا کا دور دورہ تھا، سب ہی پروفائل بنا رہے تھے۔ موص...

نشست 27: علم و عرفان
29 جنوری، 2023
تو بس صاحب! ہم سمجھ گئے ! کہ علم ہے تو عرفان بھی ہوگا! تو بس صاحب علم و عرفان کی خاطر نکلے تھے اور بھٹکتے ہوئے لاہور اردو بازار میں علم و عرفان پبلشر ...

نشست 26: کافکائی انتظار تھے
29 جنوری، 2023
جی صاحب! کافکائی انتظار تھے، پیش رَو تھے، رُو بہ رُو بھی! جی صاحب رُو بہ رو بھی! خیر روبرو! کی بات پھر ہو گی، ابھی یہی کہتے ہیں کہ روبرو بھی ہمیں، رو ...

نشست 25: ؎ جلوہ بقدرِ ظرفِ نظر دیکھتے رہے !
29 جنوری، 2023
؎ جلوہ بقدرِ ظرفِ نظر دیکھتے رہے !جی صاحب دیکھتے رہے ہیں، دیکھ ہی رہے ہیں ! کیا ہے کہ جلوے ہیں، کیا ہے کہ جَلو ہیں، مجلّات و محلات میں مجمل نہ ہو سکے!...

24: گال گوئیا ہو جائے گا!
29 جنوری، 2023
پروردگارِ عالم نے انبوہ اَنبار نباتات پیدا فرمائی ہیں ، اُن کے مراتب و محاسن بھی رکھے، ہر شے کے جوڑے بنائے، مثبت اور منفی جیسے ایک دوسرے سے، ایک دوسرے...

23: چہرے ظاہر ہوں!
29 جنوری، 2023
کیا ہے کہ چہرے ہیں ! کیا ہے کہ رات ہے! تو صاحب! آدمی کیا ہے؟ ہم نے کہا چہرہ ہے! چہرہ تو ہے لیکن اُس چہرے کی چ میں تین تین چ اور بھی تھے، چہرے ہی تھے! ...

22 رشکِ بُتانِ آذری
29 جنوری، 2023
؎ ائے چہرہ ائی زیبائے تُو، رشکِ بُتانِ آذریچہرہ صاحب! کتاب ہی ہے! اور کتاب بھی ایسی کہ لکھے جا رہی ہو، لکھوائی جا رہی ہے! “ڈِکٹیشن” ہو رہی ہے! جی صاحب...

نشست 21: شبِ وصل
29 جنوری، 2023
دعوی ٰ نہیں ہے،صاحب! ہمرا بس اتنا ہی کہنا ہے کہ ہم نے رات کو اُس کے ہر ہر پہر میں دیکھا ہے، ہم نے صرف دیکھا ہے رات کو، یہ دعویٰ نہیں ہے ۔ پروفیسر احمد...